Type Here to Get Search Results !

Muhabbat Aazmao Gay! Abhi Tum Ny Kaha

 

محبت آزماؤ گے؟

ابھی تم نے کہا! کہ محبت آزماؤ گے

چلو اب یہ بھی بتلا دو کہ کیسے آزماوگے

 

سنو تم طفلِ الفت ہو تمہیں معلوم ہی کیا ہے

محبت کس کو کہتے ہیں محبت کیسے ہوتی ہے

 

تمہیں بس یہ پتا ہے کہ محبت مر نہیں سکتی

محبت باتیں کرتی ہے محبت ساتھ رہتی ہے

محبت ایک کرتی ہے محبت جان دیتی ہے

 

یہ پھر تم یہ سمجھتے ہو محبت ایک دھوکہ ہے

ہوس ہے جسم کی چاہ ہے محبت مار دیتی ہے

 

محبت چھوڑ دیتی ہے محبت جھوٹ ہو تی ہے

تو تمہارے مطابق محبت بس یہی ہوتی ہے

 

اسے تم آزماؤ گے؟

یہ سب جاننے کے بعد بھی اسے تم آزماؤگے؟

یا پھر تم آزما بیھٹے؟

 

کہا نا!طفل الفت ہو تمہیں معلوم ہی کیا ہے

محبت یہ نہیں ہوتی، یہ جس کو تم سمجھتےہو

 

تمہیں بتلاؤں یہ کیا ہے؟ کبھی آیئنہ دیکھا ہے؟

کہ جس کا عکس نہ ہو پھر بھی وہ ہر عکس رکھتا ہے

 

اگر بادل ہو تو بادل اگر سورج ہو تو سورج

اگر سایہ ہو تو سایہ، اگر روشن ہو تو روشن

 

چھپاتا کچھ نہیں ہر حال میں سچ بتاتا ہے

اسے ہم جو بھی دکھلائیں ہمیں وہی دکھاتاہے

 

محبت آیئنے سی ہے بہت ہی صاف اور شفاف

اسے ہم جس طرح دیکھیں یہ ویسے ہی تو دکھتی ہے

ہاں بلکل آیئنے جیسی

 

یہ توڑا نہیں کرتی اسے ہم توڑ دیتے ہیں

یہ مارا بھی نہیں کرتی اسے ہم مار دیتے ہیں

ہاں سب کچھ ہم ہی کرتے ہیں اسے الزام دیتے ہیں

 

 

 

کہا نا !آیئنے جیسی

ہم اسکو آمائیں کیا؟ یہ ہم کو آزماتی ہے

محبت جیت جاتی ہے مگر ہم ہار جاتے ہیں

 

تمہیں اب یہ بھی بتلاؤں ؟

کہ اس میں جیتنا یا ہارنا کچھ بھی نہیں ہوتا

یہ سب ذوق اناتسکین دل، وقتی تسلی ہے

 

ضرورت کے تقاضے ہیں یہ خواہش کے تماشے ہیں

محبت یہ نہیں یارم! محبت بس محبت ہے

 

یہ خود خاموش ہوتی ہے یہ خاموشی سے ہوتی ہے

یہ بس توفیق ہوتی ہے فقط محسوس ہوتی ہے

 

عطائے رب یکتا ہے یہ ہر اک دل میں ہوتی ہے

مگر احساس مرنے پر محبت مر بھی جاتی ہے

 

تم اسکو آزماؤ گے؟ محبت آزماؤ گے

زرا آیئنہ دیکھو! زرا خود کو پہچانو تو

محبت آزماؤ گے؟ محبت آزماؤ گے

 

 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* You are welcome to share your ideas with us in comments.