Type Here to Get Search Results !

Kainaat Ki Badtareen Makhloq

 

کائنات کی بدترین مخلوق

مولا علی ؑ کا فرمان ہے:

ریا کار کی تین علامتیں ہیں:

لوگوں کے سامنے بڑے خضوع و خشوع سے عبادت کرتا ہے، تنہائی میں عبادت کو بوجھ سمجھتا ہے اور ہر کام میں اپنی تعریف سننے کا خواہش مند ہوتا ہے۔

 

کہتے ہیں ایک ناداں شخص ایک رات مسجد گیا۔ وہ اس رات صبح تک تنہائی میں اللہ کی عبادت اور رازونیاز کرنا چاہتا تھا۔ رات کو اسے کوئی آہٹ سنائی دی۔اس نے سمجھا اسکی طرح کوئی اور شخص بھی عبادت کےلیے مسجد میں آیا ہوا ہے۔لیکن تاریکی کی وجہ سے  وہ اسے نظر نہ آیا۔ اسکے بعد اس نے غیر معمولی حد تک عبادت،گریہ و زاری اور خضوع و خشوع کا اظہار کرنا شروع کردیاوہ دل ہی دل میں بہت خوش تھاکہ فلاں شخص لوگوں کو بتائے گا کہ یہ رات کی تاریکی میں کس طرح اللہ سے راز و نیاز کررہا تھا۔اس طرح لوگوں کی نظر میں اسکی قدرو منزلت میں اضافہ ہوگا۔

جب صبح کا اجالا ہوا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ آہٹ تو ایک کتے کی تھی جو مسجد کا دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے اندر داخل ہوگیا اور کسی کونے میں جا سویا۔

اس نے ٹھنڈی آہ بھر کر خود کو کوسناشروع کردیاکہ: اے بد بخت ! تم نے ایک بے شعور حیوان کی خاطرپوری رات جاگ کر عبادت کی مشقت میں گزار دی کاش تم مسجد میں آنے کی بجائے گھر سوئے رہتے۔۔۔۔۔۔۔کاش!

 

ریاکار عبادت اور خدائی کاموں کے ذریعے لوگوں کو بے وقوف بنا کر انہیں دھوکہ و فریب دیتا ہے۔ یہ لوگ خدا پرستی کی بجائے خود پرستی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ان ریاکاروں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اس برے عمل کی وجہ سے خود کو مشرکین کی صف میں لا کر کھڑا کرتے ہیں۔

 

جیساکہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا۔

قیامت کے دن سب سے پہلے حافظ قرآن کو حساب کے لیے بلایا جائے گا اللہ تعالیٰ اسے مخاطب کرتے ہوئے فرمائے گا:

کیا میں نے تمہیں اپنے رسولﷺ پر نازل کردہ کتاب حفظ نہ کروائی؟

وہ کہے گا: جی ہاں! اے میرے پروردگار! تو نے مجھے یہ کتاب حفظ کروائی۔

جواب قدرت آئےگا: تو پھر تم نے میری تعلیم کردہ کتاب پرعمل کیا؟

وہ کہے گا: میں شب و روز اسکی قرائت کر کے اسکی تعلیم عام کرتا تھا۔

اللہ پاک اور فرشتے جواب دیں گے: جھوٹ بول رہے ہو! تمہارا اصل مقصد قرآن پاک کی تعلیمات کی نشرو اشاعت نہ تھا، بلکہ تم دل ہی دل میں کہتے تھے کہ تمہارے بارے میں کہا جائے یہ شخص کتنا اچھا قاری ہے اور ایسا ہی ہوا تم نے اپنا مقصد پا لیا، لہذا اب میری بارگاہ سے نکل جاؤ! ہماری بارگاہ میں تمہاری کوئی جزا نہیں ہے۔

 

اسکے بعد امیر شخص کو حاضر کیا جائے گا اللہ پاک اس سے مخاطب ہو کر فرمائے گے اے میرے بندے کیا میں نے تم پر اپنی نعمتوں کی بارش نہیں کی تھی؟

وہ جواب دے گا: کیوں نہیں، اے میرے  پروردگار!ایساہی تھا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہوگا: تو پھر تم نے میرے اس عطاپر کیا اعمال ِ خیر انجام دیئے؟

وہ جواب دے گا: میں نے اپنے مال ودولت سے صلہ رحم یعنی رشتہ داروں اور عزیزوں کی امدادکرتا تھا اور صدقہ وخیرات اور دیگر نیک کام سرانجام دیتا تھا۔

جواب قدرت آئے گا جھوٹ بولتے ہو تمہارا اصل مقصد یہ تھا کہ کوگ تمہارے بارے میں یہ کہے کہ تم کتنے سخی ہو۔ لہذا تم نے اپنا مقصدا پالیا۔ میری بارگاہ سے نکل جاؤ!

 ہماری بارگاہ میں تمہاری کوئی جزا نہیں ہے۔

اس کے بعد میدان جنگ میں مارے جانے والے کو پیش کیا جائے گا۔

اس کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ یہی ارشاد فرمائے گے تم جھوٹ بولتے ہو ۔

تم چاہتے تھے کہ کوگ تمہارے بارے میں یہ کہے کہ تم کتنے بہادر ہو۔

لہذا تم نے اپنا مقصدا پالیا۔ میری بارگاہ سے نکل جاؤ!

 ہماری بارگاہ میں تمہاری کوئی جزا نہیں ہے۔

 

 

اس کے بعد نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

یہ تین گروہ ( یعنی ریاکار قاری قرآن، ریاکا صاحبان مال، ریاکار شہید)

کائنات کی بد ترین مخلوق ہیں اور یہی لوگ جہنم کی آگ کا ایندھن ہیں۔

 

اللہ پاک محمد ؐو آلؑ محمدؐ ﷺکے صدقے  ہمیں ریاکاری سے محفوظ رکھے۔۔۔۔

آمین۔۔۔

 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* You are welcome to share your ideas with us in comments.