Type Here to Get Search Results !

دو طالب علموں کے درمیان استاد کے احترام پر مکالمہ

 

دو طالب علموں کے درمیان استاد کے احترام پر مکالمہ

حسن اور حسین دونوں ایک ہی کلاس میں پڑھتے ہیں۔تفریح کا وقت ہوا اچانک  گروانڈ میں دو طلبہ آپس میں لڑنے جھگڑنے لگتے ہیں۔

پروفیسر عمران ہاشمی صاحب انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایک طالب علم ان سے گستاخی سے پیش آنے لگتا ہے۔

اس وجہ سے حیران ہو کر حسن ،حسین سے کہتا ہے۔۔۔۔۔۔

حسن۔  حسین! دیکھ یار کیسے ایک عظیم ہستی سے گستاخی  کی جا رہی ہے۔

حسین۔حسن!میرے پیارے دوست یہ کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ آجکل  ہمارے معاشرے میں اساتذہ کرام  کا احترام ختم ہو گیا ہے۔

حسن۔ ہاں یار لیکن یہ تو کوئی طریقہ نہیں  استاد ِ محترم سے بات کرنے کا۔ با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب ہوتا ہے، یہ طالب علم یوں کیا حاصل کریں گے۔

حسین۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں حسن!

میں نے استادوں کی توہین کرنے والوں ، اور بے ادبی کرنے والوں کو ہمیشہ ذلیل ہوتے ہی دیکھا ہے۔

حسن۔جی ہاں حسین! آپ درست فرما رہے ہیں۔ استاد ہی وہ ہستی ہے جس سے نیے معاشرے کی تشکیل کی جا سکتی ہے۔

ایسے ہی  ظفر علی خان صاحب نے  اپنے بیٹے کو کچھ یوں نصیحت فرمائی

" بیٹا ہر حال میں استاد کا احترام کرو کیونکہ استاد ایک ہستی کا نام ہے جس نے مستقبل کو بنانا ہوتا ہے۔

حسین۔جی ہاں بلکل جیسا کہ ہمارے اقبال صاحب فرماتے ہیں۔

"استاد ایک ایسی ہستی کانام ہے کہ اگر استاد کے محل پر کبوتر آکر بیٹھے تو جب وہ اڑ کر جائے گا تو وہ کبوتر نہیں بلکہ باز ہوگا۔

حسن۔ اساتذہ کا تو اتنا مقدس پیشہ ہے کہ جس کے بارے میں خود نبی اکرم ﷺ نے کچھ یوں ارشاد پاک فرمایا

"بے شک میں محمد ﷺ کو معلم بنا کر بھیجا گیا ہیں۔"

حسین۔ دوست آپ نے درست فرمایا۔ لیکن ایک سے بڑھ کر ایک  برائی تو ہمارے معاشرے میں پھیل چکی ہے۔ان سب سے بڑی برائی ہے اساتذہ کی توہین اور نافرمانی۔

حسن۔یار !کچھ طالبہ اساتذہ کرام کی ڈانٹ کی وجہ سے غصہ ہوجاتے ہیں۔

حسین۔ہاں یار! لیکن اساتذہ کرام کی ڈانٹ یعنی غصہ  بھی ہمارے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ وہ ہماری بہتری کے لیے کہ ہم کچھ بن جائے تلخ لہجہ استعمال کرتے ہیں۔

لیکن حقیقت میں ان کا یہ تلخ لہجہ شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہوتا ہے۔

حسن۔لیکن آج کل طلبہ اساتذہ کرام کے احترام کو محلوظ ِ خاطر نہیں رکھتے  اور یہ ایک ایسا گھٹیا کام ہے جو  طلبہ کو برباد کر دیتا ہے۔

حسین۔یار تم نے سکند ر ِ اعظم کا نام  سنا ہو ہی ہوگا وہ اپنے استاد کے لیے کہا کرتا تھا۔

"میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لایا تھا۔ لیکن میرے استاد نے مجھے زمین سے آسمان پر پہنچادیا۔

حسن۔لیکن یار ہماری بد قسمتی ہے  کہ استاد کا احترام معاشرے سے اٹھ گیاہے جو کہ معاشرے کے زوال کا سبب بن رہا ہے۔

حسین۔ پتہ نہیں حسن آج کل کے طلبا کیا جانتے ہیں ۔ کہ وہ اساتذہ کرام کے مقام سے واقف نہیں ۔

حسن۔ میرے خیال میں  واقف تو اچھی طرح ہیں لیکن بعض اداروں میں خود اعتمادی کی آڑ میں انہیں برباد کیا جا رہا ہے۔

حسین۔ ہا ں یار آپ درست فرما رہے ہیں ۔

اللہ رب العزت ہمارے جوانوں کو اساتذہ کرام کی توفیق دیں۔

آمین!

اس کے بعد  تفریح کا وقت ختم ہو گیا اور دونوں اپنی کلاس میں واپس چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Post a Comment

2 Comments
* You are welcome to share your ideas with us in comments.
  1. Buy Hydrocodone online Medicines are an integral part of our lives today. We aim to provide our medication to everyone for a cost that is accessible to everyone. A good quality certified medication assists in keeping everyone at the best of their health. Our site helps everyone to learn about available medications and receive them on time during emergencies.

    ReplyDelete