Type Here to Get Search Results !

دو طالب علموں کے درمیان احترام استاد پر مکالمہ

 

دو طالب علموں کے درمیان احترام استاد پر مکالمہ

علی اور حیدر ہم جماعت ہیں۔ تفریح کا وقت ہے۔ اچانک دالان میں دو طالب علموں کے درمیان لڑائی شروع ہو گی۔ پروفیسر صاحب انھیں لڑنے سے روکتے ہیں مگر ان میں سے ایک طالب علم پروفیسر سے گستاخی سے پیش آتا ہے۔اس پر علی حیران ہو کر حیدر سے کہتا ہے۔

 

علی: حیدر! دیکھ رہے ہو تم ایک عظیم ہستی سے کتنا ادنیٰ رویہ برتا جا رہا ہے۔

حیدر: علی! یہ کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ آج کل معاشرے میں اساتذہ کرام کا احترام اٹھ چکا ہے۔

علی: یہ کو ئی طریقہ تو نہیں ہے استاد سے بات کرنے کا۔با ادب با نصیب،بے ادب بے نصیب۔

حیدر: اساتذہ کرام کی بے ادبی اور گستاخی کرنے والوں کو ہمیشہ ذلیل ہوتے ہی دیکھا ہے۔

علی: جی بالکل، ٹھیک کہا آپ نے استاد ہی وہ ہستی ہیں جس کی وجہ سے نیا معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ جس طرح مولانا ظفر علی خان نے اپنے فرزند کو کہا تھا کہ بیٹا استاد کا احترام کرو کہ یہ وہ ہستی ہے جو نیا معاشرہ تشکیل دیتی ہے۔

حیدر: علامہ اقبال فرماتے ہیں




توں آں شاہ کہ محل برقصرت

کبوتر گرنشیند، باز گردو

علی: بالکل ٹھیک کہا علامہ صاحب نے۔

ہمارے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا!




بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے۔

حیدر:کہتے ہے کسی زمانے میں لوگ استادوں کا جان سے زیادہ احترام کیا کرتے تھے۔

علی: جی ہاں شاعر مشرق علامہ اقبال بھی اپنے استاد کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے۔

حیدر:استاد ہی تو ہستی ہے جو اپنے سینے میں چھپا علم طالب علم کے حوالے کرتی ہیں۔

علی: دوست !لیکن صد برائیوں سے بڑھ کر برائی تو ہمارے معاشرے میں پھیل چکی ہے اور وہ ہے استاد کی ناقدری۔

حیدر:کچھ طالب علم اساتذہ کی ڈانٹ سن کر غصہ ہو جاتے ہیں۔

علی: استادوں کی ڈانٹ بھی ہمارے لیے بہت ضروری ہوتی ہے۔

حیدر:مہذب قومیں تو اب بھی اپنے اساتذہ کا احترام کرتی ہے۔ یعنی غیرممالک۔

علی: ہاں یار وہاں صرف شاگرد ہی نہیں بللکہ معاشرہ بھی اساتذہ کا احترام کرتا ہے۔

حیدر:بس یار خدا! ہمارے نوجوانوں کو عقل دے کہ وہ اساتذہ کا احترام کرےی

علی:آمین

  AlsoRead Respectful-teacher-dialogue-between-two-students

Post a Comment

0 Comments
* You are welcome to share your ideas with us in comments.