Type Here to Get Search Results !

Aik Bakheel Shaks Ka Anjaam In Urdu

 

بخیل شخص کا انجام


روایت میں ہے کہ ثعلبہ بن حاطب پیغمبراکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی:

اے نبی ِؐ خدا  ﷺ دعا فرمائے اللہ پاک مجھے مال و دولت عطا فرمائے۔مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا:

اگر اللہ تعالیٰ مجھے مال و دولت نصیب فرمادےتو میں اس میں سے تمام حقوق ادا کروں گا۔

آپﷺ نے بارگاہ اللہ رب العزت  میں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی:

ثعلبہ کو مال و دولت عطا فرمادے۔۔۔۔۔۔

اس کے بعد ثعلبہ نے کچھ بھیڑ بکریاں خریدیں جو روز بروز بڑھتی گئیں۔ اس کے بعد وہ مدینہ کے مضافات میں سکونت پذیر ہوگیا۔اسکی بھیڑ بکریوں میں آئے روز مسلسل اضافہ ہوتا گیا یہاں تک کہ وہ مدینہ سے دور جا کر رہنے لگا۔اب وہ مدینہ جا کر نماز جماعت اور نماز جمعہ میں شرکت سے محروم ہو گیا۔

نبی اکرمﷺ کے حکم پر زکوٰت جمع کرنے والے ثعلبہ کے پاس اسکے مال کی زکوٰت لینے گئے تو اس نے انکار کردیا۔

نبی اکرمﷺ نے جب یہ سنا تو فرمایا تو فرمایا!

افسوس ہو ثعلبہ پر!

زکوٰت جمع کرنے والے اور لوگوں سے جمع کرنے کے بعددوبارہ ثعلبہ کے پاس گئےتو ثعلبہ نے کہا تم ذرا نبی اکرم ﷺ کا حکم نامہ مجھے دکھاؤ تا کہ مجھے تسلی ہو جائے۔ مگر پھر بھی اس نے ذکوٰت نہ دی۔

اس پر قرآن پاک میں یہ آیات نازل ہوئی:

بعض لوگوں نے عہد کیا کہ اگر وہ (اللہ) اپنا فضل فرما کر انہیں کچھ مال و دولت نصیب کرے تو ہم زکوٰت دیں گے اور صالحین میں شامل ہو جائے گے۔مگر جب اللہ نے اپنے فضل سے انہیں کچھ مال عطا کیا تو انہوں نے بخل سے کام لیا اور انکاری ہوئے۔ تو اللہ نے اسکا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کےلیے جس میں وہ اللہ کے سامنے حاضر ہو گے انکے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لیے کہ انہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسکے خلاف کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔

 

 

ایک صحابی رسولﷺ نے کھڑے ہو کر اس آیات کو حاضرین کے سامنے پڑھ کر کہا:

یہ آیات ثعلبہ بن حاطب کے بارے میں نازل ہوئی۔

جب ثعلبہ کو اسکی خبر ہوئی تو وہ توبہ کرتے ہوئے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا مگر نبی اکرم ﷺ نے مال کی ذکوٰت لینے سے انکار کردیا،کیونکہ قرآن پاک کا فرمان ہے : اسکے دل میں قیامت تک منافقت بھری رہے گی۔

 اس کے بعد ثعلبہ واصل ِ جہنم ہوگیا۔۔۔۔۔

(دوستی و دوستان)

 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* You are welcome to share your ideas with us in comments.