Type Here to Get Search Results !

Achi Batein


 




قارئين محترم!

دینِ اسلام نے انفاق (لوگوں پر خرچ کرنا) اور صدقہ دینے کے بارے میں بہت تاکید کی ہے تاکہ تنگدست لوگ اپنی دلخراش وضع سے نجات پاٸیں اور انکی مالی ضرورتیں پوری ہونیکی بدولت انکی ذہنی پریشانی دُور ہو جاٸے اور خرچ کرنیوالا شخص بھی اس مقدس عمل کے نتیجے میں ایک بلند تراخلاقی اور روحانی درجہ حاصل کر لے اور فضیلت اور کمال پر فاٸز ہو۔

لیکن اگر لوگوں پر خرچ کرنے اور صدقہ دینے کے بعد احسان جتایا جاٸے (جیسا کہ آج کل آپ الیکٹرونک و پرنٹ میڈیا پر دیکھ رہے ہیں) تو ایک طرف تو نہ صرف یہ کہ عملی طورپر انفاق اور صدقہ کا مقصد پورا نہیں ہوتا بلکہ ان لوگوں کی رُوح کو بھی زیادہ سخت اذیت ملتی ہے اور دوسری طرف یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ عمل اللّٰہ تعالی کی خاطر نہ تھا فقط دیکھاوا تھا۔*

 

قارئين محترم!

قرآن مجید بہت سے مواقع پر لوگوں کی مدد کرنے اور صدقہ دینے کے موضوع پر گفتگو کر رہا ہے اور توجہ دلا رہا ہے کہ یہ عمل فقط اللّٰہ تعالی کی راہ میں ہونا چاہیٸے اور اسکے بعد احسان نہیں جتانا چاہیٸے۔

 

💠  جیسا کہ سورہ بقرہ آیت ٢٦٢ میں ارشاد ہوتا ہے:

جو لوگ اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں نہ ایذا دیتے ہیں، ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس ہے اور انہیں نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ محزون ہوں گے۝

 

💠  پھر دوسری جگہ قرآن پاک ان لوگوں کو جو صدقات و عطیات فقط دیکھاوے کیلٸے دیتے ہیں جیسا اوپر بیان ہوا ہے کہ آج کل کروناواٸرس کے سلسلہ میں غریب افراد کی مدد کرنیوالے فوٹو سیشن کیلٸے ایک تھیلہ پر دس دس آدمیوں کے ہاتھ ہوتے ہیں اور بعض دفعہ تو یوں لگتا ہے وہ غریب کی مدد کرنیکی بجاٸے اسکا گلہ دبا رہے ہوں تو انہی لوگوں کیلٸے قرآن پاک سورہ بقرہ آیت ٢٦٤ میں اللّٰہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا دے کر اس شخص کی طرح برباد نہ کرو جو اپنا مال صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے اور وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، پس اس کے خر چ کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سے مٹی ہو، پھر اس پر زور کا مینہ برسے اور اسے صاف کر ڈالے، (اس طرح) یہ لوگ اپنے اعمال سے کچھ بھی اجر حاصل نہ کر سکیں گے اور اللہ کافروں کی راہنمائی نہیں کرتا۝

 

2  *باطل صدقہ*

 

جناب رسالت مآب ﷺ فرماتے ہیں:

جو شخص کسی مسلمان پر احسان کرے اور اسکے بعد اسے اپنی باتوں سے اذیت دے اور اس پر احسان جتاٸے تو اللّٰہ تعالی اسکا صدقہ باطل کر دیتا ہے اور اس پر توجہ نہیں اور اسکے قلب کو پاکیزہ نہیں کرتا۔

  اور جب کسی کو کچھ دو تو اسے حقیر نہ سمجھو اور اسکا احترام کرو۔

 

3  *صدقات اللّٰہ تعالی لیتا ہے*

 

صدیقِ اکبر امام العالمین مولا علی مرتضٰی علیہ الصلاةوالسلام فرماتے ہیں:

جب کسی مانگنے والے کو کوٸی چیز عطا کرو تو اپنا ہاتھ منہ کے پاس لے جا کر اسے چومو کیونکہ صدقات اللّٰہ تعالی لیتا ہے۔

  پھر شاید اسی وجہ سے حکم دیا گیا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو صدقے خفیہ طورپر دو۔

 

4  *سات گروہ لطف کے ساۓ میں*

 

جناب رسول اعظم ﷺ فرماتے ہیں:

سات گروہ ایسے ہیں جنھیں اللّٰہ تعالی قیامت کے دن اپنے لُطف کے ساٸے میں رکھے گا۔ ان میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو صدقہ دیتے ہیں اور اسے چھپاٸے رکھتے ہیں حتٰی کہ انکے داٸیں ہاتھ کو انکے باٸیں ہاتھ کے خرچ کرنیکی خبر نہیں ہوتی۔

 

بحوالہ:

مجمع البیان۔ جلد١

وسائل الشیعہ۔ جلد٢

جامع السعادات۔ جلد٢

 

*اﻟﻠََُّّ َِّ َٰ ٍََُّ ﻭﺁﻝِ ٍََُّ ﻭﻋَِّْ َََُْ*

 

Tags

Post a Comment

0 Comments
* You are welcome to share your ideas with us in comments.